آفرین[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - مرحبا، شاباش، واہ واہ (داد و تحسین کے موقع پر مستعمل)۔  فلک پر لافتٰی الا علی لاسیف کاغل تھا زبان قدرت جاں آفریں سے آفریں نکلی      ( ١٩٣١ء، محب، مراثی، ٢٠٥ )

اشتقاق

یہ اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے۔ اور اپنی اصلی حالت اور اصلی معنی کے ساتھ ہی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٤٩ء میں "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مؤنث